پرسکون اور اطمینان بخش انداز میں قاص نے عرض کیا امیرالمومنین یہ شاہ روم کی طرف سے مراسلہ ہے،امیرالمومنین نے وہ خط کھولا اور اس کو پڑھنا شروع کیا،امابعد۔۔۔


پرسکون اور اطمینان بخش انداز میںقاص نے عرض کیا ’’امیرالمومنین! یہ شاہ روم کی طرف سے مراسلہ ہے‘‘۔ امیرالمومنین نے وہ خط کھولا اور اس کو پڑھنا شروع کیا۔ ’’امابعد۔۔۔۔۔۔میرے قاصدوں نے مجھے یہ خبر دی ہے کہ آپ کی طرف کوئی درخت ہے جو (زمین سے) ہاتھی کےکانوں کی مانند نکلتا ہے۔ پھر اس کی روئیدگی سفید موتی کی مانند ظاہر ہوتی ہے، پھر وہ سبز ہوتا ہے تو سبز رنگ کے زمرد کی مانند ہو جاتا ہے، پھر سرخ ہو کر یاقوت کی مانند ہو جاتا ہے، پھر کھانے کے قابل ہوتا ہے تو خوش ذائقہ فالودہ کیمانند

ہو جاتا ہے جو پھر کھایا جاتا ہے۔ پھر جب خشک ہو کر توڑنے کے قابل ہوتا ہے تو مقیم کے لئے ذریعہ حفاظت اور مسافر کے لئے زادِ راہ بن جاتا ہے اگر میرے قاصد اپنی بات میں سچے ہیں اور انہوںنے مجھے سچی خبر دی ہے تو وہ بلاشبہ جنت کا ہی درخت ہو گا۔ اس مراسلہ کو پڑھنے کے بعد حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جوابی خط لکھا۔ جس کے الفاظ یہ ہیں ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم۔۔۔۔اللہ کے بندے عمر امیرالمومنین (رضی اللہ عنہ) کی طرف سے شاہ روم، قیصر کے نام۔ امابعد! آپ کے قاصدوں نے آپ کو سچی خبر دی ہے اور وہ درخت وہ ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے مریم علیہا السلام کے لئے ان کی زچگی کے وقت پیدا فرمایا تھا۔ پس تم خدا کا خوف کرو اور اللہ تعالیٰ کے سوا عیسیٰ علیہ السلام کو اپنا معبود نہ بنائو‘‘۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں