پنجاب میں تعلیمی ادارے سموگ کے باعث بند کرنے کا عندیہ


لاہور (نیوز ڈیسک)سموگ کے باعث حکومت پنجاب نے تعلیمی ادارے بند کرنے کا عندیہ دیا ہے، حکومت پنجاب کے ٹیکنیکل سب ورکنگ گروپ برائے انسداد کورونا نے تجویز دی ہے کہ سموگ سے فضائی آلودگی کا تناسب 300 سے بڑھ جانے پر تعلیمی ادارے بند کر دیے جائیں۔ پی ڈی ایم اے میں بنائے گئے ٹیکنکل سب ورکنگ گروپ نے حکومت کو آگاہ کیا ہے کہ لاہور سمیت پنجاب کےبیشتر شہروں میں سموگ کی وجہ سے فضائی آلودگی کے تناسب میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، میڈیا ذرائع کے مطابق ٹیکنکل سب ورکنگ گروپ نے لاہور میں سموگ سے فضائی

آلودگی کا تناسب 300 سے تجاوز کر جانے پر تعلیمی ادارے بند کرنے کا مشورہ دیا ہے۔اس کے علاوہ حکومت کو یہ بھی تجویز دی گئی ہے کہ شہر میں مارکیٹس، بازار سات بجے بند کر دیے جائیں اور شادی ہالز کو رات 9 بجے سے پہلے بند کرنے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے۔ دوسری جانب سی ٹی او لاہورکیپٹن (ر) سید حماد عابد کی ہدایت پر سٹی ٹریفک پولیس نے دھواں چھوڑنے والی گاڑیوں کیخلاف کارروائیاں جاری ہے۔دھواں دینے والی26ہزارگاڑیوں کو چالان ٹکٹس جاری کر دئیے گئے جبکہ ماحولیاتی آلودگی اور سموگ کا باعث بننے والی گاڑیوں کو،57لاکھ23ہزار روپے جرمانہ بھی عائد اوردھواں چھوڑنے والی86 گاڑیاں بھی بندکر دی گئیں۔ اس حوالے سے سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ شہر کے داخلی و خارجی راستوں پر خصوصی ناکہ جات لگاتے ہوئے کارروائی کی جارہی ہے، سی ٹی او لاہور کی ایجوکیشن یونٹ کو بس اڈوں پر آگاہی لیکچرز بھی دینے کی ہدایت سی ٹی او لاہور کا کہنا تھا کہ سرکل افسران متعلقہ یونینز کے ساتھ مل کر آگاہی مہم چلائیں بس اڈوں، ٹیکسی اسٹینڈز سرکاری و نیم سرکاری دفاتر میں ٹریفک آگاہی کا بھی سلسلہ جاری رکھا جائے گا، گاڑیوں سے نکلنے والا مضر صحتدھواں سموگ کا باعث بنے گا احتیاطی تدابیر اپنانے سے سموگ کے خطرات سے بچا جا سکتا ہے، آگاہی دینے سے سموگ کے اثرات کم ہونگے، سموگ سے انسان کو سانس لینے میں دشواری، ناک،گلے کی بیماریوں کا اندیشہ رہتا ہے، ماحولیاتی آلودگی اور فضائی آلودگی سے پاک آب و ہوا صحت مند معاشرے کی ضامن ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں