پنجاب پبلک سروس کمیشن کاامتحانی نظام مشکوک ہوگیا کامیاب ہونے والے ٹاپرز بھی پرچوں کے خریدار نکلے چشم کشا انکشافات


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تمام امتحانات مشکوک ہو گئے ۔ انسپکٹر اینٹی کرپشن کیلئے ٹاپ کرنیوالے دونوں امیدواروں نے پرچے خریدے تھے، کمیشن کے اعلیٰ افسروں کے ملوث ہونے کا امکان ، ٹیسٹنگ کنسلٹنٹ کو بھی گرفتار کرلیا گیا۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پنجاب پبلک سروس کمیشن کے تمام امتحانات مشکوک ہو گئے ہیں۔ پیپرز لیک کرنے والے گروہ نے 12 امتحانات کے پیپرز لیک کرکے فروخت کئے جن میں لیکچرر تحصیلدار، ڈپٹی اکائونٹس آفیسر، انسپکٹر اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر اینٹی کرپشن کے پرچے شامل ہیں۔وزیراعلیٰ کی بنائی گئی تحقیقاتی ٹیم نے ابتدائی رپورٹ تیار کرلی ہے۔

تحقیقات کے مطابق پی پی ایس سی کے متعدد افراد کے منظم گروہ کے ساتھ رابطے تھے ، ملزمان نے تسلیم کیا کہ انسپکٹرز کا پرچہ لیک کرنے کا ریٹ 10لاکھ سے 15لاکھ رکھا ،یہ پرچہ 8افراد کو فروخت کیا گیا ،اینٹی کرپشن کے امتحان کا پرچہ 12لاکھ سے18 لاکھ کے درمیان فروخت کیا۔صحافت، کیمسٹری، ایجوکیشن سمیت متعدد مضامین لیکچرز کی اسامیوں کیلئے بھی پرچے فروخت کئے گئے۔اینٹی کرپشن پنجاب نے پی پی ایس سی کے پیپر لیک سکینڈل میں ایک اور ملزم فہد علی کو گرفتار کرکے عدالت سے دوروزہ جسمانی ریمانڈ حاصل لیا ۔ فہد علی نے تحصیلدار کے پرچےکے لئے 6 امیدداروں کو بک کیا تھا۔اینٹی کرپشن ذرائع کے مطابق فہد علی ایجوکیشن کمیشن میں کنسلٹنٹ ٹیسٹنگ ہے۔ اس کی تنخواہ ساڑھے 3 لاکھ روپے ہے۔ فہد علی 210 سے 2017 تک ریجنل ڈائریکٹر این ٹی ایس رہا۔ فہد علی نے اس کے بعد سی ٹی ایس بنا لی۔ غضنفر کیوٹس ایپ چیٹ سے فہد علی کے ملوث ہونے کا ثبوت ملا۔ امیدواروں کو رشوت کے عوض بک کرنے کی ذمہ داری فہد علی کی تھی۔ بک کیے گئے امیدواروں کو فہد علی، غضنفر کے حوالے کرتا تھا،اینٹی کرپشن حکام کے مطابق تحقیقات کے دوران ملزمان نے 12 اہم اسامیوں کے پرچےلیک کرنے کا انکشاف کیا ہے ۔جس کے بعد اینٹی کرپشن میں انسپکٹرز اور اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی اسامیوں پر بھرتیوں کا عمل بھی مشکوک ہوگیاہے ۔اینٹی کرپشن میں انسپکٹرز کی اسامیوں کیلئے دونوں ٹاپرز بھی پرچہ خرید کر کامیاب ہوئے۔انسپکٹر اینٹی کرپشن کی آسامی کیلئےدونوں ٹاپر محمد کامران حنیف ،جہانزیب بھی لیک پرچہ خریدنے والے امیدواروں میں شامل تھے ۔اینٹی کرپشن کے پرچے آئوٹ کرنے کیلئے امیدواروں سے فی کس 5لاکھ روپے رشوت لی گئی۔اینٹی کرپشن نے پی پی ایس سی کے گرفتار ڈیٹا اینٹری آپریٹر وقار اکرم کے بیانات پر تحقیقاتکا دائرہ وسیع کردیا۔پرچہ لیک ہونے کے سکینڈل میں پنجاب پبلک سروس کمیشن کے اعلی افسران کے ملوث ہونے کا بھی امکان ہے۔اینٹی کرپشن نے پی پی ایس سی کے ڈیٹا اینٹری آپریٹر کے دوست غضنفر گوہر اور مظہر کو گرفتار کر رکھا ہے۔ ڈی جی اینٹی کرپشن کا کہنا ہے کہ معاملے کی تہہ تک پہنچیں گے۔ سکینڈل کے تمام کرداروں کو جلد بے نقاب کرینگے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں