”چھوڑیں جی ایسے معمولی واقعے تو ہوتے رہتے ہیں” اسامہ ستی سے متعلق شیخ رشید کے بیان پر کابینہ ہکا بکا


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک ، این این آئی )وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں اسامہ ستی کیساتھ پیش آئے واقعے سے متعلق سینئر صحافی رئوف کلاسرا کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وفاقی کابینہ میں بھی اس معاملے پر گفتگو کی گئی،وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز کو کہاگیا کہ آپ میڈیا پر جا کر بتائیں کہ حکومت اس واقعے پر کس قدر افسردہ ہے اور حکومت کوشش کرے گی کہ اسامہ ستی کے گھر والوں کو انصاف دیا جائے ،کابینہ میں ایسی بریفنگ میڈیا کو دینے کا فیصلہ کیا گیا تاکہ عوام کو یہ نہ لگے کہ یہاں پر بے

حس لوگ بیٹھے ہیں اور انہوں نے اس پر ایکشن نہیں لیا۔رئوف کلاسرا کے مطابق جب وفاقی کابینہ میں اس معاملے پر بحث کی جا رہی تھی تو وزیر داخلہ شیخ رشید نے ایسا بیان دیا جس پر سب ہکا بکا رہ گئے اور کابینہ ایک بار ہل کر رہ گئی۔انہوں نے کہا کہ چھوڑیں جی،یہاں پر اس طرح کے معمولی واقعات ہوتے رہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ایک وزیر داخلہ کے نوجوان کے قتل پر یہ الفاظ تھے۔یعنی کہ پولیس نے ایک نوجوان کو قتل کر دیا اور اس بارے میں شیخ رشید کا کہنا ہے کہ چھوڑیں اس طرح کے معاملات تو ہوتے رہتے ہیں۔شیخ رشید کے الفاظ سن کر کابینہ کے تمام افراد حیران رہ گئے۔کیونکہ کوئی بھی یہ توقع نہیں کر رہا تھا کہ ایک وفاقی وزیر وہ بھی وزیر داخلہ اتنے اہم معاملے پراس طرح کی رائے رکھتا ہے۔شیخ رشید سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے معمولی قتل تو ہوتے رہتے ہیں۔اس پر وفاقی وزیر فواد چوہدری نے کہا کہ کوئی خدا کا خوف کریں،آپ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ یہ معمولی واقعہ ہے۔امریکا میں صرف ایک بندے کو قتل کرنے کی وجہ سے پوراامریکا سڑکوں پر نکل آیا تھا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ ایک بچے کو مار ڈالا ہے تو یہ معمولی بات ہے۔فواد چوہدری نے مزید کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی ہار کے پیچھے سیاہ فام نسل کا قتل بھی ہے۔ وفاقی وزیر فیصل واوڈا نے بھی شیخ رشید کے بیان پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔ذرائع کے مطابقدیگر وزرا اس پر خاموش رہے کیونکہ انہیں وزیر داخلہ سے کوئی کام پڑ سکتا ہے۔دوسری جانب انسداد دہشتگردی عدالت نے اسامہ ستی قتل کیس کے ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے وائرلیس کرنے والے اہلکار کو بھی شامل تفتیش کرنے کا حکم دیدیا۔ بدھ کو اسلام آبادکی انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے اسامہ ستی قتل میں ملوث اہلکاروں کے جسمانی ریمانڈ میں توسیع سے متعلق کیس پر سماعت کی۔ تفتیشی افسر نے اسامہ ستی کی پوسٹمارٹم رپورٹ عدالت میں جمع کرادی، دوران سماعت پولیس کے تفتیشی افسر نے ملزمانکے بارہ روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ ملزمان سے مزید تفتیش درکار ہے۔انسداد دہشت گردی عدالت کے جج راجہ جواد عباس نے تفتیشی افسر سے استفسار کیا کہ اب تک ملزمان سے کیا کچھ برآمد ہوا،کتنی گولیاں لگیں ،کیا ساری سامنے سے لگیں۔تفتیشی افسر نے جواب دیا کہ ملزمان سے آلہ قتل برآمد کرلیا گیا ہے مقتول کو پانچ گولیاں پیچھے سے لگیں، وقوعہ کی تصاویر نہیں بنائیں گئیں۔ عدالت نے تصاویر نا بنانے پر تفتیشی افسر پر اظہار برہمی کرتے ہوئے کہا کہ تصاویر نہ بنانا ملزمان کو مدد فراہم کرنا ہے۔ عدالت نے ملزمانکو روسٹرم پر طلب کرتے ہوئے واقعہ سے متعلق استفسار کیا جس پر ملزمان نے کہاکہ تھانہ شمس کالونی کے اے ایس آئی سلیم نے ڈکیتی سے متعلق وائرلیس چلائی جس میں کہا گیا کہ گاڑی سفید رنگ کی اور چار افراد سوار ہیں،گاڑی ہر صورت روکنی ہے،جج نے ملزمان پر اظہار برہمیکرتے ہوئے کہا کہ اسامہ کی گاڑی چھوٹی اور تمہاری پک اپ گاڑی تھی، اگر کوئی گاڑی نہیں روکے گا تو کیا سیدھی فائرنگ کردوگے؟ اس پر ملزمان نے جواب دیا کہ اسامہ کی گاڑی کا رنگ بھی سفید اور کالے شیشے تھے، اسامہ کی گاڑی نے تین سگنلز توڑے،عدالت نے وائرس لیس چلانے والے اہلکار کو بھی شامل تفتیش ہونے کا حکم دیتے ملزمان کا سات روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں