چیئرمین نعیم بخاری کاپی ٹی وی پر بطور میزبان پروگرام کا اعلان اپنے پروگرام کے معاوضہ سے متعلق بھی حیران کن بات کہہ دی


لاہور( این این آئی/آئن لائن) چیئرمین نعیم بخاری پاکستانی ٹیلی وژن پر بطور میزبان پروگرام بھی کریں گے ،اپنے پروگرام کا معاوضہ بھی وصول نہیں کریں گے ۔ ایک انٹرویو میں نعیم بخاری نے بتایا کہ میں پی ٹی وی سے کوئی تنخواہ اورمراعات وصول نہیں کر رہا بلکہ گاڑی بھی اپنی استعمال کرتا ہوں اورکافی بھی اپنے دفتر سے منگواتاہوں ۔ انہوں نے بتایا کہ میں پی ٹی وی پرایک پروگرام بھی کروں گا۔ وزیروں کا انٹرویو کرنا چاہتا ہوں لیکن وہ صرف گفتگو کیلئے نہیں ہوگا بلکہ ان سے ان کی تین سالوں کی کارکردگی بارے سوالات پوچھے

جائیں گے۔ پی ٹی وی حکومت کی کارکردگی بھی دکھائے گا ۔انہوں نے کہا کہ میر اپہلے والوں سے سوال ہے کہ ڈیڑھ سال میں آپ نے کیا کیا ہے سوائے ترکی کا ڈرامے دکھانے کے ۔ ترکی کے ڈرامے سے پی ٹی وی کو 42کروڑ روپے کے اشتہارات ملے لیکن اس کا کریڈٹ وزیر اعظم عمران خان اور ترکی کو جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کے ملازمین کو بتاناچاہتا ہوںکہ میں یہاں پیسے لوٹنے نہیں آیا ۔دوسری جانب پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن کے منیجنگ ڈائریکٹر عامر منظور بھی چیئرمین پی ٹی وی بورڈ نعیم بخاری کے عتاب کا نشانہ بن گئے اور نام نہاد چارٹ شیٹ کے ذریعے انہیں معطل کر دیا گیا ہے۔ذرائع کے مطابق ایم ڈی پی ٹی وی عامر منظور نے نعیم بخاریکے غیر قانونی احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا جس پر نعیم بخاری نے پی ٹی وی بورڈ کو استعمال کرتے ہوئے ان کے خلاف انتقامی کارروائی کی اور انہیں چارج شیٹ بھی کر دیا جس پر عامر منظور کا یہ موقف سامنے آیا ہے کہ یہ سب کچھ نعیم بخاری کی ایماء پر ہو رہا ہے اور جو چارج شیٹ میں ان پر الزامات لگائے گئے ہیں وہ قطعی طور پر بے بنیاد اور حقائق کے برعکس ہیں۔ان کا یہ موقف ہے کہ وہ ادارے کو مستحکم کرنے کی کوشش میںمصروف تھے لیکن نعیم بخاری کو یہ سب پسند نہیں آیا اور انہوں نے من مانی پر مبنی فیصلے کرتے ہوئے انہیں چارج شیٹ کیا،ایم ڈی کا یہ بھی موقف تھا کہ وہ اس سرکاری ادارے کو قواعد کے تحت چلا رہے تھے اور جو منڈیٹ عمران خان نے دیا تھا اس کے مطابق آگے بڑھ رہے تھے انہوں نے کہا کہ پی ٹی وی کو مالی طور پر بہتر کرنے کی کوششیں باآور ثابت ہوئیں اور اس ریاستی ادارے نے آپریشنل منافع بھی دکھانا شروع کر دیا تھا اس کے باوجود ان کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی اور ان پر بے بنیاد الزامات عائد کر کے کارروائی کی گئی۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں