کراچی واقعہ پر سندھ حکومت نے تحریک انصاف پر ایسا سنگین الزام عائد کر دیا کہ وزیراعظم بھی چکرا جائیں گے


کراچی (این این آئی) ترجمان سندھ حکومت اور مشیر قانون و ماحولیات بیرسٹر مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ سندھ کے جزائر پر بنائی گئی آئی لینڈ اتھارٹی کو مسترد کرتے ہیں۔ صدارتی آرڈیننس کو سندھ اسمبلی کے ذریعے غیر مؤثر کیاجائیگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سندھ اسمبلی کے میڈیا کارنر پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی اور متحدہ قومی موومنٹ وفاقیحکومت کاحصہ ہیں اور اسی حکومت نے غیرآئینی آرڈیننس جاری کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم عوام کے حقوق کو آئینی تحفظ فراہم کرنے والے تمام اقدامات اٹھائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پولیس کے غیرسیاسی ہونے کے حامی ہیں۔ پی ٹی آئی کے لیڈران نے پچھلے 48 گھنٹوں میں جو بیانات دیئے ہیں وہ ظاہر کرتے ہیں کہ پولیس کواستعمال کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ آئی جی اور چیف سیکریٹری کو دھمکیاں دیں۔ اس پولیس والے کوبھی دھمکیاں دیں جوکہہ رہے تھے کہ میں قانونی کارروائی کرتا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی لیڈرشپ آئی جی کے گھر پہنچی اور آئی جی سمیت تمام افسران کو چھٹی کی درخواستیں واپس لینے کی اپیل کی۔ رینجرزکے اختیارات کم نہیں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی وزیر اس حکومت کا حصہ ہیں جو ہولیس کو خود مختار طریقے سے کام کرنے پر یقین نہیں رکھتے۔ پیپلز پارٹی قانون کی بالا دستی پر یقین رکھتی ہے۔ پولیس کو خود مختار ہونا چائیے اور سندھ میں ایسا ہی ہے۔ پچھلے 48 گھنٹوں میں پی ٹی آئی نے جو بیان بازی کی ہے وہ پولیس پر اثر انداز ہونے کی کوشش ہے۔پولیس پر اثر انداز ہونے کی ویڈیوز موجود ہیں۔ پی ٹی آئی نے آئی جی اور چیف سیکریٹری کو دھمکیاں دیں۔ پی ٹی آئی پولیس کے معاملات میں دخل اندازی کرنے پر یقین رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری خود آئی جی ہاؤس گئے اور ان کو یقین دہانی کرائی۔ اس کے بعد پولیس افسران نے اپنیڈیوٹیز بحال کرلیں۔ ماضی میں بھی پولیس اور رینجرز کے زریعے پورے سندھ میں امن قائم کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس آرڈیننس کو فوری واپس لیا جائے۔ یہی وفاقی حکومت کے لیے بہتر ہے۔ وفاق اس حکومت کا حصہ ہیں۔جو پولیس کو آزادنہ کام کرنے نہیں دینا چاہتے ہیں۔ پنجاب میں پولیس کے ساتھ کس طرح مداخلت ہو رہی ہے۔ پولیس کو آزادانہ کام کرنے کی ضرورت ہے۔گزشتہ 48 گھنٹوںمیں پی ٹی آئی کے لیڈران نے جس طرح کے بیانات دئیے ہیں۔ پولیس کو استعمال کرنے کی وڈیوز موجود ہیں۔ پہلے پولیس کو دھمکیاں دی گئی۔ پی ٹی آئی والے پولیس کو اس طرح استعمال کرنا چاہتے ہیں اور قانون نافذ کرنے والوں سے پیپلز پارٹی کمٹمنٹ سامنے ہے۔بلاول بھٹو خود آئی جی آفس گئے تھے۔رینجرز کے اختیارات کا کوئی معاملہ نہیں ہے۔ وزیر اعلیٰ نے درست کہا کہ پولیس نےصحیح کام کیا۔ حلیم عادل شیخ نے اعتراف کیا کہ وہ میرا بھانجا ہے۔ ن لیگ کے ایونٹ پر پی ٹی آئی کے کارکن کے جانے کی کیا ضرورت تھی۔ حقائق بتاتے ہیں وہ وہاں موجود نہیں تھا۔ خط لکھا تھا تو اس میں واضح کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ تمام آئی لینڈ ہماری ملکیت ہیں کمیٹی کا آج اعلان کردیں گے۔ اس معاملہ کا آرمی چیف نے بھی نوٹس لیا ہے۔ پیپلز پارٹی کسی فرد واحد کے ساتھ نہیں بلکہاداروں کے ساتھ کھڑی ہوگی۔ جس کے سرکاری کام میں مداخلت کی گئی ان کے خلاف کارروائی کی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی صدارتی آرڈیننس پر سندھ اسمبلی میں قرارداد لائے گی اور قرارداد کا متن تیار ہے۔ صدارتی آرڈیننس کو آئین کے آرٹیکل1،172کیخلاف قرار دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس کیخلاف قرارداد پر وزیراعلیٰ مرادعلی شاہ بات کریں گے۔ قرارداد کےذریعے وفاقی حکومت کو آئی لینڈ اتھارٹی آرڈیننس مسترد کرنے کا کہا جائے گا۔ وفاقی حکومت صدارتی آرڈیننس کو منسوخ کرنے کیلئے ایڈوائس صدر مملکت کو بھیجیں گے۔ انہوں نے کہا کہ آج صبح کراچی میں گلشن اقبال میں بم دہماکہ ہوا ہے جو ظاہری طو رپر بینک کی عمارت تھی۔ ابتدائی رپورٹ میں سلینڈر گیس دھماکہ بتایا گیا ہے اور اس اندوہناک واقعے میں چار افراد جاں بحق اور  پچیسافراد زخمی ہیں۔ اس معاملے میں پولیس، رینجرز اور دیگر ادارے تحقیقات کررہیہیں اور زخمیوں کاعلاج کیاجارہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آج سندھ اسیمبلی میں تاریخی دن ہے۔ سندھ کے عوام کے سامنے آج یہ عیاں ہو جائیگا کہ کون کون سی سیاسی جماعتیں سندھ کی عوام اور سندھ کی مٹی اور جزیروں کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے کہا کہ صدارتی آرڈیننس سندھ کی عوام کے خلاف ہے۔ماہی گیروں کے حقوق کی خلاف ورزی ہے جس پر ہم آج قراردادپیش کررہے ہیں۔ پیپلز پارٹی ارکان اس بات کا اظہار کریں گے کہ صدارتی آرڈیننس آئین کے آرٹیکل ایک 97, 172اور239کے خلاف ہے بالخصوص بھنڈار سندھ کے عوام کی ملکیت ہے جس پر وفاقی حکومت قابض ہونےکی کوشش کررہی ہے پیپلز پارٹی آئین اورپاکستان کے ساتھ کھڑی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج متحدہ قومی موومنٹ کے نمائندوں کا بھی امتحان ہے ہم دیکھتے ہیں کہ عوام کے ساتھ کھڑے ہیں یاخان کے ساتھ ہماری قرارداد اس بات کا ثبوت ہے کہ ہم آئین کی سربلندی پریقین رکھتے ہیں۔

موضوعات:

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں