کرونا وائرس کا انصار عباسی کے دماغ پرحملہ پھر کیسے جان لیواء وبا سے چھٹکارا ملا؟موت کے منہ سے نکلنے کے بعد معروف صحافی نے آپ بیتی بیان کردی


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)سینئر صحافی اور کالم نگار انصار عباسی اپنے آج کے کالم ”موت مجھے چھو کر گزر گئی ” میں تحریر کرتے ہیں کہ یکم دسمبر 2020 کا دن میرے لیے ایک معمول کا دن تھا اور کوئی پریشانی نہیں تھی لیکن اس کے بعد جو ہوا وہ نہ صرف میرے لیےبد تر تھا بلکہ ایک بھیانک خواب سے کم بھی نہیں تھا۔ کورونا وائرس نے مجھ پر عجیب طرح سے حملہ کیا اور اس کی وجہ سے میں اس قدر شدید متاثر ہوا کہ میرے لیے صورتحال غیر یقینی ہوگئی تھی۔ زندگی میں پہلی مرتبہ مجھے لگا کہ

میرا سامنا موت کے ساتھ ہوا ہے۔معمول کے مطابق، میں اپنے دفترمیں تھا۔ عمومی انداز سے کام کاج کر رہا تھا اور اپنی ٹیم کے ممبران کے ساتھ مختصر بات چیت اور بحث و مباحثہ بھی جاری تھا۔جسمانی لحاظ سے میں تندرست تھا، کوئی تھکن تھی نہ بخار ۔۔ صحت کے حوالے سے بھی کوئی ایسے آثار نہیں تھے کہ جس سے پتہ چلتا کہ مجھ پر کورونا وائرس کا حملہ ہوا ہے۔ اسی شام دفتر سے گھر واپسی پر میں ایک رشتہ دار کے یہاں تعزیت کیلئے پہنچا۔ میں نے اور کئی دیگر لوگوں نے ماسک پہن رکھا تھا لیکن ایسے لوگ بھی تھے جنہیں پروا ہی نہیں تھی۔ اس کے بعد اگلی صبح مختلف تھی۔تھوڑی سستی اور ساتھ ہی تھکن محسوس ہوئی لیکن مجھے بالکل بھی اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دنوں میں میرےساتھ کیا ہونے والا ہے۔ الحمد للہ میرے گھر کے دیگر افراد کا کورونا ٹیسٹ منفی رہا۔ میں ایک لمحے کیلئے بھی پریشان نہیں تھا اور امید تھی کہ حالات کوئی مشکل پیدا کیے بغیر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن اس کے باوجود میں نے فوری طور پر میں نے وفاقی دارالحکومت میںاس پر خطر اور ناقابل بھروسہ نوعیت کی بیماری کے حوالے سے بہترین دستیاب آپشن، ڈاکٹر شازلی منظور، سے رجوع کیا۔انہوں نے میرا ایکسرے کیا، خون کے نمونے لیے اور تشخیص کے بعد کچھ دوائیں دیں جن میں ایک اینٹی بایوٹک بھی تھی۔ ڈاکٹر خود بھی پریشان نہیں تھے لہذا میں بھیمطمئن تھا۔ میری عمر 55 سال ہے اور زندگی بھر الحمدللہ میں صحت مند رہا ہوں۔خاندان میں بلڈ پریشر کا مسئلہ رہا ہے لیکن یہ کنٹرول میں ہے۔ پاکستان میں کورونا وائرس کی پہلی لہر کے بعد، میں نے پہلے سے زیادہ اچھی خوراک، کیلشیم لینا اور ایسی دیگر چیزوں کا استعمال بڑھا دیاجن کی وجہ سے قوت مدافعت میں اضافہ ہوتا ہے۔لہذا میں خود کو کورونا کے ممکنہ حملے سے بچانے کیلئے تیار کر رہا تھا۔ لیکن میں غلط تھا۔ میرے معاملے میں کورونا زیادہ خطرناک، عجیب و غریب اور دھوکے باز ثابت ہوا۔ جس دن میں نے ڈاکٹر صاحب سے رجوع کیا تھا، اسی شام سے میںنے دوائیں لینا شروع کر دیں۔ نیند معمول کے مطابق رہی۔اگلی صبح میں اٹھا، ناشتہ لیا، سورج کی دھوپ سینکتے ہوئے اخبارات کا مطالعہ کرنے لگا۔ لیکن حالات و واقعات میری خواہش کے مطابق نہیں رہے، اور میرے لیے صورتحال ایمرجنسی جیسی بن گئی۔ میں غنودگی محسوس کرنے لگا۔ہوش آتا جاتا محسوس ہوا۔ مجھے فوری طور پر اسپتال لیجایا گیا اور جس وقت میں وہاں پہنچا، میں بے ہوش تھا۔ میرے لیے آنکھیں کھولنا مشکل ثابت ہو رہا تھا۔ تاہم، مجھے ڈاکٹروں اور اپنے اہل خانہ کی آوازیں آتی رہیں اور وہ مجھے ہوش میں لانے کی کوششیں کر رہے تھے۔ میرا سیچوریشن لیول، بلڈ پریشر، ای سی جی، شوگر، سینے کا ایکسرے حتی کہ سی ٹی اسکین بھی فوری طور پر کیا گیا اور حیران کن طور پر سب ٹھیک تھا۔کورونا نے دراصل میرے دماغ پر حملہ کیا تھا اور اس حوالے سے میں نے پہلے کچھ سنا تھا اور نہ سوچا تھا۔ کئی گھنٹوں تک، میں بات نہ کر پایا، سوچبھی نہ پایا۔ میں اپنے الفاظ کھو بیٹھا، یادداشت چلی گئی۔اگر میں کچھ کہنا بھی چاہ رہا تھا تو مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ کیا کہنا تھا۔ میں اپنی سوچ قائم نہیں رکھ پا رہا تھا۔ شدید پیاس لگ رہی تھی لیکن میرے منہ سے پانی لفظ تک نہیں نکل پا رہا تھا۔ بعد میں مجھے اہل خانہ نے بتایا کہ میں اپنا ہاتھ اورانگلیاں ہلا رہا تھا اور شاید کچھ کہنا چاہ رہا تھا لیکن میرے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل رہا تھا۔ڈاکٹرز کیلئے بھی یہ ایک عجیب صورتحال تھی۔ تمام میڈیکل رپورٹس درست تھیں لیکن کورونا نے مجھ پر عجیب طرح سے حملہ کیا تھا۔ صورتحال کئی گھنٹوں تک جاری رہی۔ لیکن جو باتمجھے پتہ تھی وہ خوف کے بغیر موت تھی۔ اس کے بعد معجزہ ہوا۔ میری چھوٹی بیٹی نے کہا، بابا درود شریف پڑھیں۔ میری بیٹی نے پہلی مرتبہ خود میرے لیے درود شریف پڑھا اور اس کے بعد میں نے دورد شریف پڑھنا شروع کیا اور ساتھ ہی دیگر دعائیں بھی کیں۔جو شخص جو کچھ دیر قبل تکبے سدھ تھا، بات نہیں کر پا رہا تھا، سوچ نہیں سکتا تھا، جس کے منہ سے ایک لفظ تک نہیں نکل رہا تھا، اس نے فورا دعائیں پڑھنا شروع کر دیں۔ بعد میں مجھے بتایا گیا کہ الحمد للہ میں نے دعائیں پڑھتے وقت کوئی غلطی نہیں کی۔یہی وہ موقع تھا جب میں نے کورونا کے اپنے دماغ اور نظامِ اعصابپر جان لیوا حملے سے ریکوری شروع کی۔ الحمد للہ صرف 24 گھنٹوں میں، میری یادداشت، ذہنی چوکسی یعنی ہر چیز تقریبا نارمل ہوگئی۔ مجھے گھر منتقل کر دیا گیا اور ساتھ ہی دوائیں بھی دی گئیں کیونکہ بظاہر سنگین خطرہ ٹل چکا تھا۔ لیکن کورونا وائرس کے پاس میرے لیے مزید جان لیوامنصوبہ موجود تھا۔ میں دوائیں لے رہا تھا، ان میں سے زیادہ تر دوائیں انجکشن کے ذریعے دی جا رہی تھیں لیکن اچانک ہی بعد میں کورونا نے میرے پھیپھڑوں پر حملہ کر دیا۔میں کھانس رہا تھا اسلئے ڈاکٹر کے پاس پہنچا جنہوں نے ایکسرے کے بعد کچھ ٹیسٹ کیے اور اسپتال منتقل کرنے کافیصلہ کیا گیا اور چوبیس گھنٹے آکسیجن لگائی گئی۔ کورونا کا مجھ پر دوسرا حملہ میرے لیے تکلیف دہ تھا کیونکہ میرے لیے چند قدم چلنا بھی محال تھا۔غسل خانے تک جانا بھی میرے لیے ایسا ہی تھا جیسے میں کوئی بلند ترین پہاڑ سر کرنے نکلا ہوں۔ اس مرتبہ مجھے سانس کی نالی میںہونے والی سوزش (لوئر ریسپائریٹری ٹریکٹ انفکشن ۔ ایکیوٹ وائرل نمونیا) ہوگئی تھی۔ اسپتال میں ایک ہفتے تک داخل رہنے اور انجکشنز(کنولا پاس کرنے کیلئے عملا میری ہر نبض میں سوراخ کیا گیا تھا) کے ذریعے دوائیں لینے کے بعد دو دن قبل مجھے اسپتال سے رخصت ملی۔ اب میںتقریبا 25 گولیاں روزانہ لے رہا ہوں۔اس وقت بھی میں آکسیجن سپورٹ پر ہوں اور الحمدللہ خدا پاک کی مہربانی سے روبہ صحت ہوں جس کیلئے کئی لوگوں نے دعائیں بھی کی ہیں۔ لیکن، میرا یہ سب لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ خدارا کورونا کو معمولی نہ سمجھیں۔ خدا سب کو اپنی حفظ و امان میںرکھے اور اس سنگین بیماری سے بچائے۔ آمین۔ آپ میرے تجربے سے سیکھیں اور سوچیں۔یہ بیماری آپ کو بھی متاثر کرکے تکلیف میں مبتلا کر سکتی ہے۔ لاکھوں لوگ اپنی زندگی سے ہاتھ دھو چکے ہیں۔ میں خوش نصیب ہوں کہ بدتر حالات سے باہر نکل آیا۔ آکسیجن سپورٹ سے چھٹکارا ملنے میں کچھ ہفتے لگیں گے۔ زندگی للہ تعالی کا تحفہ ہے اور ہمیں اس کی حفاظت کرنا چاہئے۔ الحمدللہ، سب ہی اچھے اور برے لوگوں کیلئے، تکلیف کے بعد راحت ضرور آتی۔

موضوعات:

ڈاکٹر اسلم بھی چلے گئے

”مجھے اللہ سے صرف دو سال چاہییں‘ میں کم از کم اپنے بچوں کو ٹرینڈ کر لوں‘ میں گھر اور دفتر کا کوئی سسٹم بنا لوں“ ڈاکٹر اسلم کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ میں نے چائے کا کپ پکڑادیا‘ دو گھونٹ بھرے‘ کپ میز پر رکھا اور روانہ ہو گئے‘میں گاڑی تک ان کے ساتھ آیا‘ ان کی ….مزید پڑھئے‎

”مجھے اللہ سے صرف دو سال چاہییں‘ میں کم از کم اپنے بچوں کو ٹرینڈ کر لوں‘ میں گھر اور دفتر کا کوئی سسٹم بنا لوں“ ڈاکٹر اسلم کی آنکھوں میں آنسو تھے‘ میں نے چائے کا کپ پکڑادیا‘ دو گھونٹ بھرے‘ کپ میز پر رکھا اور روانہ ہو گئے‘میں گاڑی تک ان کے ساتھ آیا‘ ان کی ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں