کرکٹ میں اس پاکستانی فاسٹ بولرکے سامنے ہم سب بڑے بڑے بیٹسمین بھیگی بلی بن جاتے تھے، آسٹریلوی بیٹسمین سٹیو سمتھ نے حیران کن نام لے دیا‎‎


اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک )آسٹریلوی بلے باز سٹیو سمتھ نے پاکستانی پیسر محمد عامر کو مشکل ترین باؤلر قرار دیدیا ہے، اس سے قبل محمد عامر کو مشکل باؤلر بھارتی بیٹسمین ویرات کوہلی نے بھی قرار دیا تھا۔انسٹا گرام پر سوال و جواب کے ایک سیشن کے دوران ٹیسٹ کرکٹ کے نمبر ون بلے باز سٹیو سمتھ نے محمد عامر کی بطور باؤلر صلاحیتوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ”میں نے اب تک جتنے بھی باؤلرز کا سامنا کیا ہے اس میں محمد عامر سب سے زیادہ صلاحیتوں کے مالک ہیں”۔2017 میں ایک بھارتی پروگرام کے دوران ویرات کوہلی نے

بھی محمد عامر سے متعلق ایسے ہی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ حالیہ دور میں پاکستانی باؤلر محمد عامر دنیا کے دو تین ٹاپ کے باؤلرز ا ور میرے کیریئر میں سامنا کیے گئے مشکل ترین باؤلرز میں سے ایک ہیں”۔گزشتہ ماہ انسٹاگرام پر ہی محمد عامر نے سٹیو سمتھ اور ویرات کوہلی میں سے سٹیو سمتھ کو آؤٹ کرنے کیلئے مشکل ترین بیٹسمین قرار دیا تھا۔دوسری جانب انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مایہ ناز آل راؤنڈر بین سٹوکس نے آسٹریلیا کے سابق کپتان سٹیو سمتھ کو انتہائی ذہین قرار دیا ہے۔تاہم بین سٹوکس کا کہنا ہے کہ سٹیو سمتھ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ ’عجیب‘ بھی ہیں۔خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق بین سٹوکس نے پوڈ کاسٹ پر نشر ہونے والے ایک پروگرام میں کہا کہ سٹیو سمتھ کے خلاف کھیلنا بھی اتنا ہی عجیب ہے جتنا کہ ان کے ساتھ کھیلنا۔اور سب سے بہترین بات یہ ہے کہ وہ خود بھی یہ تسلم کرتے ہیں۔بین سٹوکس نے کہا کہ ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ تھوڑا سا عجیب ہونا بھی ضروری ہے اور سٹیو سمتھ میں یہ دونوں صفات موجود ہیں۔بین سٹوکس نے حریف کھلاڑی کے بارے میں مزید کہا کہ وہ خود کرکٹ بالخصوص بیٹنگ کے بارے میں اس انداز سے نہیں سوچتے جیسے سمتھ سوچتے ہیں۔ ’میں کبھی بھی ایسا نہ کر سکوں اور یہی وجہ ہے کہ سٹیو ٹیسٹ کرکٹ میں بھی 60 کی اوسط سے زیادہ رنز بناتے ہیں۔30 سالہ سٹیو سمتھ 73 ٹیسٹ میچز میں 62 سے زیادہ کی اوسط رنز بنا چکے ہیں جبکہ انگلینڈ کے خلاف ان کا رن ریٹ 65.11 ہے۔2019 میں کھیلی جانے والی ایشز سیریز میں سٹیو سمتھ سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی تھے۔بین سٹوکس نے انٹرویو میں کہا کہ اگرچہ سٹیو برطانیہ کی حریف آسٹریلوی ٹیم کے لیے کھیلتے ہیں لیکن اس کے باوجود ایسے کھلاڑیوں کو داد دینی پڑتی ہے جو بالخصوص بیٹنگ میں بالکل ہی مختلف درجے پر ہوں۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں