کسی زمانے میں حضرت لقمان رحمتہ اللہ علیہ ایک رئیس کے غلام تھے، ایک دن رئیس نے انہیں حکم دیا ایک بکری ذبح کرو اور اس میں سے جو سب سے اچھی چیز ہو وہ پکا کر لے آ،وہ گئے اور۔۔۔


کسی زمانے میں حضرت لقمان رحمتہ اللہ علیہ ایک رئیس کے غلام تھے۔ ایک دن رئیس نے انہیں حکم دیا ’’ایک بکری ذبح کرو اور اس میں سے جو سب سے اچھی چیز ہو وہ پکا کر لے آؤ۔‘‘وہ گئے، بکری ذبح کی اور اس کا دل اور زبان پکا کر لے آئے۔ دوسرے دن رئیس نے پھرحکم دیا ’’ایک بکری ذبح کرو اور اس میں جو سب سے بدترین چیز ہو وہ پکا کر لے آؤ۔‘‘ وہ گئے، بکری ذبح کی اور دل اور زبان ہی پکا کر لے آئے۔ یہ دیکھ کر رئیس نے تعجب سے پوچھا ’’یہ

کیا؟ میں نے بہترین چیز پکا کر لانے کے لیے کہا تو آپ دل اور زبان پکا کر لے آئے اور آج جب میں نے کہا کہ بدترین چیز پکا کر لے آئیں تو پھر آپ دل اور زبان پکا کر لے آئے۔۔۔ بھلا یہ کیا بات ہوئی؟‘‘اس پر حضرت لقمان رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا! ’’جناب اگر یہ دونوں چیزیں صحیح ہوں تو بہترین چیزیں ہیں، اور اگر یہ دونوں چیزیں خراب ہوں تو پھر بدترین بھی یہی ہیں۔‘‘ رئیس ان کا جواب سن کر بہت خوش ہوا۔ بے گناہ شخص کی قید ابھی کل کے اخبار ہی میں، میں نے یہ خبر پڑھی کہ ایک بے گناہ شخص پینتالیس سال جیل میں گلتا سڑتا رہا، اس کا کوئی جرم نہیں تھا، اسے محض آوارہ گردی کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا۔ وہ چونکہ رشوت دینے کی سکت نہیں رکھتا تھا تو اسے اپنی زندگی کے قیمتی پینتالیس سالوں کا نذرانہ پیش کرنا پڑا، وہ جیل میں گیاتھا تو نوعمر تھا، اب ایک رفاہی ادارے کی کوشش سے رہا ہوا ہے تو اس کی کمر خم ہو چکی ہے، اب اس کے بال سفید ہو چکے ہیں وہ اپنا ماضی کھو چکا ہے اور اب اس بے چارے کا مستقبل ہی کیا ہوگا۔ہائے افسوس! بڑے بڑے قاتل اور منشیات فروش بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھ کر ہماری قسمت کے مالک بنے ہوئے ہیں اور ایک نوعمر بچے کو محض آوارہ گردی کے جرم میں پینتالیس سال کی سزا بھگتنی پڑتی ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں