کپور حویلی کی مطلوبہ رقم نہ ملی تو اسے منہدم کرکے یہ کام کریں گے، پشاور کے ایک خاندان کا دعویٰ


پشاور (این این آئی)کپور حویلی سے متعلق پشاور کے ایک خاندان نے دعویٰ کیا ہے کہ کپور حویلی کی مطلوبہ رقم نہ ملی تو اسے منہدم کرکے کمرشل پلازہ بنائیں گے۔تفصیلات کے مطابق خیبر پختونخوا (کے پی) کی حکومت کی جانب سے صوبائی دارالحکومت پشاور میں واقع دلیپ کمار اور راج کپور کے آبائی گھروں کو میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔گزشتہ ماہ ستمبر کےاواخر میں خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ و میوزیم کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا تھا کہ صوبائی حکومت نے بولی وڈ کے لیجنڈ اداکاروں کے گھروں کو خریدنے کے لیے سرکاری سطح

پر کارروائی شروع کی تھی۔ حکومت، دلیپ اور راج کمار کے گھروں کو خرید کر وہاں تزئین و آرائش کے بعد دونوں جگہوں کو میوزیم میں تبدیل کرکے سیاحت کو فروغ دے گی۔ڈاکٹر عبدالصمد کے مطابق دونوں اداکاروں کے گھروں کے حالیہ مالکان وہاں کمرشل پلازہ بنانے کے خواہاں ہیں اور انہوں نے اسی سلسلے میں دونوں تاریخی عمارتوں کی توڑ پھوڑ بھی شروع کردی تھی۔بعدازاں اکتوبر ہی میں صوبائی حکومت نے دلیپ کمار کے گھر اور کپور حویلی پر سیکشن فور نافذ کردیا تھا جس کے مطابق اب یہ اراضی حکومت کی جانب سے خریدی جائے گی تاہم اب کپور حویلی سے متعلق پشاور ہی کے ایک خاندان کا دعویٰ ہے کہ یہ حویلی ان کے والد حاجی خوشحال رسول نے ماضی میں ایک سرکاری نیلامی میں خریدی تھی اور بعد میں یہ حویلی ان کے 5 بیٹوں کے زیرِ ملکیت آئی۔حویلی کی ملکیت کا دعویٰ کرنے والے حاجی خوشحال رسول کے ایک بیٹے علی قادر نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے خاندان نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ کپور حویلی کے عوض حکومت خیبرپختونخوا سے 2 ارب روپے وصول کریں گے۔علی قادر نے کہا کہ یہ ایک قیمتی حویلی ہے، اس کی مثال نوادرات کی ہے اور نوادرات ہمیشہ مہنگےداموں فروخت ہوتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ کپور حویلی میں 35 کمرے ہیں اور ہر کمرے میں دیودار کے لیے لکڑی استعمال ہوئی ہے۔علی قادر نے کہا کہ ہم نے برسوں اس حویلی کی حفاظت اور مرمت کی ہے اور اگر صوبائی حکومت ہمیں مطلوبہ رقم نہیں دے سکتی تو پھر ہم اسے منہدم کرکے ایک کمرشل پلازہ بنائیں گے۔دوسری جانب کپور حویلی کو خریدنے سے متعلق صوبہ خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر عبدالصمد خان نے بتایا کہ اس حویلی کو سرکاری ملکیت بنانے کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار اپنایا جا رہا ہے۔حکومت سے حویلی کی 2 ارب روپے قیمت وصول کرنے کے مطالبے پر عبدالصمد خان نے کہا کہ مالکان تو 20 ارب روپے کا مطالبہ بھی کر سکتے ہیںتاہم ہم یہ دیکھیں گے کہ اس علاقے میں فی مرلہ اراضی کی قیمت کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ کپور حویلی 6 مرلہ اراضی پر مشتمل ہے اور جس قیمت کا مطالبہ کیا جارہا ہے تو اس طرح تو ایک مرلہ 30 کروڑ روپے کا بنتا ہے۔ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ صوبائی محکمہ ریونیو مذکورہ اراضی کی اصل لاگت کے حوالے سے جو رپورٹ دے گا اس کے بعد کے پی حکومت وہ رقم ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل کرے گی۔اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہرقم ضلعی انتظامیہ کے اکاؤنٹ میں منتقل ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر یہ رقم مالکان کے حوالے کریں گے۔ڈاکٹر عبدالصمد خان نے کہا کہ کپور حویلی کی خریداری کے لیے ایک باقاعدہ طریقہ کار کے تحت سب کچھ کیا جائے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی بتایا کہ اس وقت یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ حویلی کے اصل مالکان کون ہیں۔ڈاکٹر عبدالصمد خان نے کہا کہ انہیں آسٹریا سے بھیایک ای میل موصول ہوئی تھی جس میں ایک شخص نے کپور حویلی کا اصل مالک ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔انہوںنے کہاکہ دلیپ کمار اور کپور حویلی کو خرید کر اس کی ضروری مرمت ہونے کے بعد ان دونوں عمارتوں کو میوزیم کا درجہ دے کر سیاحوں کے لیے کھول دیا جائے گا۔ڈاکٹر عبدالصمد خان نے کہا کہ ان دونوں میوزیمز میں دلیپ کمار اور کپور خاندان کی فلمی زندگی اور پشاورسے تعلق پر مبنی سامان بھی رکھا جائے گا۔علاوہ ازیں ایک سرکاری افسر نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ کپور حویلی کی ملکیت کے دعویداروں کو کمروں میں استعمال شدہ قیمتی لکڑی کی رقم بھی ادا کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ مالکان کی جانب سے جس ہوشربا قیمتکا مطالبہ کیا جارہا ہے وہ رقم کبھی نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر کپور حویلی کے مالکان کا یہ ماننا کہ حویلی نوادرات میں شامل ہے تو وہ یہ بھی جان لیں کہ ملک میں کوئی بھی چیز جب اس قدر قیمتی اور نادر ہو جائے تو وہ خودبخود ہی ریاست کی ملکیت بن جاتی ہے۔

موضوعات:

صرف تین ہزار روپے میں

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ….مزید پڑھئے‎

دنیا میں جہاں بھی اردو پڑھی جاتی ہے وہاں لوگ مختار مسعود کو جانتے ہیں‘ مختار مسعود بیورو کریٹ تھے‘ ملک کے اعلیٰ ترین عہدوں پر رہے‘ لاہور کا مینار پاکستان ان کی نگرانی میں بنا‘ یہ اس وقت لاہور کے ڈپٹی کمشنر تھے‘ چارکتابیںلکھیںاور کمال کر دیا‘ یہ کتابیں صرف کتابیں نہیں ہیں‘ یہ تاریخ‘ جغرافیہ اور پاکستان کے ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں