کیپٹل ہل حملہ کے بعد وائٹ ہائوس سے استعفوں کی لائن لگ گئی


واشنگٹن(این این آئی ) امریکی صدر کے حامیوں کی جانب سے پارلیمنٹ پر حملے اور اس پر ٹرمپ کے رد عمل کے بعد وائٹ ہائوس سے استعفوں کی لائن لگ گئی۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے حامیوں کی جانب سے کیپٹل ہل حملے اور اس کے نتیجے میں 4 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکی صدر کے نائب قومی سلامتی کے مشیر میٹپوٹنگر نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔امریکی میڈیا کے مطابق میٹ پوٹنگر کے قریبی ساتھیوں نے تصدیق کی کہ انہوں نے کیپٹل ہل حملوں پر صدر ٹرمپ کے رد عمل کے نتیجے میں استعفیٰ دیا۔اس کے علاوہ امریکی

صدر کی اہلیہ اور خاتون اول میلانیا ٹرمپ کی چیف آف اسٹاف بھی اپنے عہدے سے استعفیٰ دے چکی ہیں، وہ وائٹ ہاس کی سابق کمیونیکیشن ڈائریکٹر اور پریس سیکرٹری بھی رہ چکی تھیں۔کیپٹل ہل حملوں کے بعد وائٹ ہائوس کی سوشل سیکرٹری نے بھی فوری طور پر اپنا استعفیٰ جمع کرادیا جس کی وائٹ ہاس حکام کی جانب سے تصدیق کی گئی ہے۔امریکی میڈیا کا بتانا ہے کہ خاتون اول کی چیف آف اسٹاف اور سوشل سیکرٹری ٹرمپ انتظامیہ کے ساتھ طویل عرصے سے کام کررہی تھیں۔امریکی میڈیا کے مطابق وائٹ ہائوس کی ایک اور پریس عہدیدار سارا میتھیوس نے بھی اپنا استعفیٰ جمع کرایا جس میں ان کا کہنا تھا کہ کیپٹل ہل واقعے نے انہیں بری طرح متاثر کیا ہے، امریکی قوم کو ایک پر امن انتقال اقتدار کی ضرورت ہے۔امریکی میڈیا کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ قومی سلامتی کے مشیر رابٹ او برائن سمیت دیگر اہم قومی سلامتی کے عہدیداران بھی استعفے دینے پر غور کررہے ہیں۔امریکی میڈیا کے مطابق ٹرمپ کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف کی جانب سے بھی جلد استعفی دیے جانے کا امکان ہے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں