کیپٹن(ر)صفدر کی گرفتاری کس کی ہدایت پر ہوئی؟ سندھ حکومت کا باضابطہ موقف سامنے آگیا


کراچی (آن لائن)پیپلزپارٹی کے رہنما اور وزیر تعلیم سندھ سعید غنی نے کہاہے کہ کیپٹن(ر)صفدر کی گرفتاری سندھ حکومت کی ہدایت پر نہیں ہوئی۔اپنے ایک بیان میں وزیر تعلیم سندھ سعید غنی کا کہنا ہے کہ مزارقائد پر کیپٹن(ر)صفدر نے جو کچھ کیا وہ نامناسب تھا،کراچی پولیسنے کیپٹن(ر) صفدر کی جس انداز میں گرفتاری کی وہ قابل مذمت ہے۔سعید غنی نے کہاکہ پولیس کا یہ اقدام PDM کی جماعتوں میں خلیج پیدا کرنے کی سازش کا حصہ ہے جسے ہم ناکام بنائیں گے۔اس سے پہلے مسلم لیگ( ن) کے رہنما کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کو پولیس نے نجی ہوٹل کے کمرے

سے حراست میں لے لیا ہے ،مریم نواز نے شوہر کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے ہوٹل کے دروازے توڑ کر کمرے میں داخل ہوئی ۔کیپٹن صفدر کو مزار قائد تقدس پامالی کیس میں گرفتار کرنے کے بعد عزیز بھٹی تھانے منتقل کر دیا گیا۔پیر کی صبح مزار قائد تقدس پامالی کا مقدمہ مسلم لیگ ن کے رہنما کیپٹن (ر) محمد صفدر کے خلاف درج کیا گیا تھا۔ مقدمہ شہری وقاص کی مدعیت میں بریگیڈ تھانے میں درج کیا گیا۔مقدمہ تحریک انصاف کے کارکنان کی جانب سے پولیس اسٹیشن کے باہر احتجاج کے بعد درج کیا گیا جس میں مریم نواز، کیپٹن ریٹائرڈ محمد صفدر سمیت دیگر 200 افراد نامزد ہیں۔مقدمے میں مزار قائد کے تقدس کیپامالی کی دفعات سمیت جان سے مارنے اور ہنگامہ آرائی کی دفعات شامل ہیں۔گرفتاری کے موقع پر کیپٹن (ر) محمد صفدر کا کہنا تھا کہ میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا بلکہ مزار قائد پر صرف مادر ملت اور ووٹ کو عزت دو کا نعرہ لگایا تھا،جیلوں میں جانے سے نہیں گھبراتے ۔مخالفین تمام ہتھکنڈے استعمال کر کے دیکھ لیں لیکن ووٹ کی حرمت کی اجازت نہیں دینگے ،ووٹ کو عزت دو کا نعرہ گھر گھر پہنچ چکا ہے ۔واضح رہے کہ گزشتہ روز مریم نواز کی مزار قائد پر حاضری کے دوران کیپٹن (ر) محمد صفدر نے نعرے بازی شروع کردی تھی اور مزار قائد کے احاطے میں ”ووٹ کو عزت دو” کے نعرے لگائے تھے۔





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں