گلشن اقبال دھماکے کے بعد پٹیل ہسپتال کا بغیر فیس علاج سے انکار انتظامیہ کی بے حسی نے ایک زخمی شخص نے تڑپ تڑپ کر جان دیدی


کراچی (آن لائن، این این آئی ) گلشن اقبال میں دھماکے کے بعد پٹیل اسپتال نے بغیر فیس کے زخمیوں کے علاج سے انکار کردیا، اسپتال انتظامیہ کی بے حسی نے ایک زخمی شخص کی جان لے لی۔مسکن چورنگی پر دھماکے کے بعد پٹیل اسپتال میں ایک اور زخمی دم توڑ گیا۔جاں بحق ہونیوالے شخص کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے زخمی کی جان گئی ہے۔لواحقین کا کہنا ہے کہ اسپتال انتظامیہ نے پہلے 50 ہزار روپے جمع کرانے کیلئے کہا ، اسپتال انتظامیہ کی بے حسی اور غفلت کی وجہ سے

زخمی جاں بحق ہوا، لواحقین کا کہنا ہے کہ زخمی تڑپتا رہا لیکن اسپتال انتظامیہ پیسے مانگتی رہی اور بروقت علاج نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جان ضائع ہوگئی۔دوران علاج زخمی شخص کے جاں بحق ہونے کے بعد لواحقین اور شہریوں نے نجی اسپتال کا گھیراؤ کرلیا ہے۔واضح رہے کہ آج کراچی کے علاقے گلشن اقبال مسکن چورنگی پرواقع 4منزلہ رہائشی عمارت النوراپارٹمنٹ میں دھماکا ہوا ، جس کے نتیجے میں5افراد جاں بحق جبکہ23 زخمی ہوگئے ،ہلاکتوں میں خدشے کا اظہار کیاجارہاہے، دھماکے کی آواز اتنی زور دار تھی کہ دور دور تک سنی گئی، قریبی عمارتوں کے شیشے بھی ٹوٹ گئے، دھماکے کے بعد لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی،دھماکے سے عمارت کے ایکحصے میں 2 منزلیں اور 2 دکانیں منہدم ہو گئیں۔وزیر اعلی سندھ اورگورنرسندھ نے مسکن چورنگی دھماکے کا نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے جبکہ چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے وزیراعلی سندھ سے ٹیلی فون پر رابطہکرکے کراچی دھماکے کی تفصیلات معلوم کیں، وفاقی وزیر برائے پورٹ اینڈ شپنگ اور صوبائی وزراء نے دھماکے کانوٹس لیتے ہوئے دھماکے میں جانی نقصان پرافسوس کا اظہارکیاہے۔تفصیلات کے مطابق گلشن اقبال ابوالاصفہانی روڈ کے قریب واقع چار منزلہ النور اپارٹمنٹ کیمبینہ طور پر پہلی منزل میں دھماکا ہوا ہے جس میں5افراد جاں بحق جبکہ 23زخمی ہو گئے۔ جاں بحق افراد کو جناح اورعباسی شہیداسپتال منتقل کردیا گیا۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی۔ 18زخمیوں کو پٹیل، 2 کوجناح اور 3 زخمیوں کو عباسی شہید ہسپتال منتقل کیا گیا۔زخمیوں میں 2 خواتین بھی شامل ہیں۔ گلشن اقبال کے اسپتال کے سینئر ڈاکٹرطارق چندریگر نے بتایا کہ اس اسپتال میں دھماکے کے 18 زخمیوں کو لایا گیا جن میں سے 5 کی حالت تشویش ناک ہے۔ انھوں نے بتایا کہ زخمیوں کو چھرے کے زخم نہیں ہیں، دھماکے کی شدت کے زخم ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ زخمیوں کو طبی امداد دی جارہی ہے۔ اس اسپتال میں کوئی لاش نہیں لائی گئی ہے تاہم زخمیوں میں خواتین بھی شامل ہیں۔ دھماکے کی نوعیت انتہائی شدید تھی جس کی آواز دور دور تک سنی گئی جبکہ عمارت کے دو فلیٹ مکمل تباہ اور پلر غائب ہو گئے ہیں۔دھماکے سے 3گاڑیاں اور 6 موٹر سائیکلوں کو بھی نقصان پہنچا۔دھماکے کی شدت سے بینک کی کرسیاں اور موٹر سائیکلیں دوسری سڑک پر اڑ کر جا گری ،دیواروں کا ملبہ بھی دور تک جا گرا ۔جاں بحق ہونے والوں میں سے 2 کی شناخت ہوگئی ہے، وہ عمارت کے نیچے واقعنجی بینک کے سیکیورٹی گارڈز تھے جبکہ زخمیوں میں بینک کا عملہ بھی شامل ہے۔عینی شاہدین کے مطابق دھماکا شدید نوعیت کا تھا جس کے باعث اطراف کی عمارتوں کو شدید نقصان پہنچااور ان کے شیشے ٹوٹ گئے ۔عینی شاہد بینک ملازم نے بتایا کہ دھماکہ پہلی یا دوسری منزلپر 10 بجے کے قریب ہوا اور جس وقت دھماکہ اس وقت بینک میں 17 سے 18 افراد موجود تھے۔ریسکیو ذرائع کے مطابق دھماکے کا شکار 4 منزلہ رہائشی عمارت تھی اور اس کے گرائونڈ فلور پر دو نجی بینک بھی واقعے ہیں۔دھماکے کے بعد پولیس، رینجرز، امدادی ٹیمیں اور دیگرقانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار جائے وقوع پر پہنچ گئے اور دھماکے کے مقام کو گھیرے میں لے کر امدادی کام شروع کردیا۔ریسکیو ٹیموں نے امدادی کاروائیاں شروع کردیں اور لوگوں کوعمارت سے نکالا۔سندھ رینجرز کے مطابق دھماکے کے بعد بم ڈسپوزل اسکواڈ کو بھی طلب کرلیا گیاجبکہ علاقے کو سیل کر دیا گیا ہے اور کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔دھماکے کے بعد عمارت میں نصب گیس کے میٹروں سے لیکیج بھی شروع ہوگئی،ترجمان سوئی سدرن گیس نے بتایا ہے کہ عمارت کی ساری گیس لائنیں محفوظ ہیں اور اس میں گیس کے 3 ڈومیسٹک میٹرز عمارت کیپچھلی طرف لگے ہوئے تھے۔ ترجمان نے بتایا کہ عمارت میں گیس دھماکے کے کوئی امکانات نہیں ہیں اور گیس کی سپلائی کو بند کردیا گیا ہے۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی ٹیم نے بھی دھماکے سے تباہ ہونے والی عمارت کا معائنہ کیا۔ایس بی سی اے کی 5 رکنی انجینئرز کی ٹیمنے جائے حادثہ کا جائزہ لے کر اپارٹمنٹ کا ایک حصہ خطرناک قرار دے دیا ہے، ٹیم نے کہاکہ دھماکے سے اپارٹمنٹ کے ایک حصے کی بنیاد مکمل تباہ ہو چکی ہے۔بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے خبردار کیا کہ دھماکے سے متاثر اپارٹمنٹ کا ایک حصہ خطرناک ہو چکا ہے اور یہ کسی بھیوقت گر سکتا ہے۔دریں اثنا، ایس بی سی اے کی ٹیم اپارٹمنٹ کا تفصیلی معائنہ کر کے رپورٹ تیار کرے گی۔ادھرانچارج سی ٹی ڈی مظہر مشوانی کے مطابق دھماکا ابتدائی طور پر سلنڈر کا لگتا ہے، زخمیوں میں 4 خواتین، 2 بچوں سمیت 23افراد شامل ہیں۔دوسری جانب فیصل ایدھی کا کہناہے کہ دھماکے میں 5 افراد جاں بحق ہوئے ہیں۔۔ ایس ایچ اومبینہ ٹائون تھانہ نے ابتدائی طور پر بتایا کہ بظاہر یہ سیلنڈر دھماکا لگتا ہے لیکن بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیمیں جائے وقوع پر پہنچ گئی جو دھماکے کی نوعیت کی تصدیق کریں گی۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کی جانب سےکمشنر کراچی سے واقع کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے دھماکے میں متاثر ہونے والے زخمیوں کے لیے فوری طبی امداد کا بندوبست کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ترجمان وزیراعلی سندھ کے مطابق وزیراعلی سندھ کی جانب سے جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار بھی کیا گیا ہے ۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو نے وزیراعلی سندھ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے کراچی دھماکے کی تفصیلات معلوم کیں۔بلاول بھٹو نے کراچی میں دھماکے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر اظہارافسوس کرتے ہوئے زخمیوں کے بہتر علاج ومعالجے کویقینی بنانیکی ہدایت کردی۔چیئرمین پی پی نے پیاروں کو کھونے والے خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار بھی کیا۔گورنرسندھ عمران اسماعیل نے بھی مسکن چورنگی دھماکے کانوٹس لیتے ہوئے دھماکے میں جانی نقصان پرافسوس کا اظہارکیا۔وزیر اطلاعات و بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ پولیساپنا کام کر رہی ہے، دھماکے کی نوعیت کا تعین کیا جا رہا ہے، تحقیقات کے بعد ہی صحیح بات بتائی جا سکتی ہے۔آئی جی پولیس سندھ مشتاق مہر نے مسکن چورنگی کے قریب دھماکے پر ایس ایس پی شرقی سے واقعے کی تمام تفصیلات اور پولیس اقدامات پر مشتمل رپورٹ طلب کرلی ہے۔علاوہ ازیں وفاقی وزیر برائے بحری امور اورپاکستان تحریک انصاف کے سینئررہنما علی زیدی نے دھماکے کے متاثرین کے لیے دعائیں اور ہمدردی کا اظہار کیا، ساتھ ہی انہوں نے حکام سے واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ بھی کیاہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز 20 اکتوبر کو کراچی کے علاقے شیریں جناح کالونی میں ریموٹ کنٹرول دھماکا ہوا تھا جس کے نتیجے میں 5 افراد زخمی ہوگئے تھے۔

موضوعات:

مولانا روم کے تین دروازے

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎

ہم تیسرے دروازے سے اندر داخل ہوئے‘ درویش اس کو باب گستاخاں کہتے تھے‘ مولانا کے کمپاﺅنڈ سے نکلنے کے تین اور داخلے کا ایک دروازہ تھا‘ باب عام داخلے کا دروازہ تھا‘ کوئی بھی شخص اس دروازے سے مولانا تک پہنچ سکتا تھا‘شاہ شمس تبریز بھی اسی باب عام سے اندر آئے تھے‘ مولانا صحن میں تالاب ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں