2سال گزر گئے ، اب تک اداروں اور گورننس میں اصلاحات کیوں نہ آسکیں؟وزیر اعظم نے مشیر ڈاکٹر عشرت حسین کی کلاس لے لی


اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک، اے پی پی)وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آئی ہے ۔ روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطا بق اداروں میں اصلاحات سے متعلق وزیر اعظم کے مشیر بر ائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسیننے کابینہ کو بریفنگ دی تو وزیراعظم مشیرعشرت حسین پر برہم ہوگئے۔ وزیر اعظم نے کہا کہ دو سال گزر جانے کے باوجود اداروں اور گورننس میں اصلاحات نہ آسکی۔ وزیراعظم نے وزیر قانون و انصاف فروغ نسیم سے سوال کیاکہ عدلیہ میں اصلاحات کیلئے وزارت قانون نے اب تک کیا کچھ کیا ہے۔ وزیر اعظم

نے ہدایت دی کہ ان اصلاحات کی رپورٹ پیش کی جائے۔ذرائع کے مطا بق گورننس میں اصلاحات کے معاملے پروفاقی وزیر فواد چودھری،شیریں مزاری اور مراد سعید سمیت دیگر وزرا بول پڑے۔ڈھائی سال پہلے انھیں اصلاحات کیلئے اہداف سونپے گئے تھے۔ وزرا نے سوال کیا کہ اس مدت میں اصلاحات کیلئے کیا کچھ کیا گیا ہے۔ وزرا نے وزیراعظم سے سوال کیا کہ کیا ان کا احتساب ہوگا،وزیراعظم نے کہا کہ تمام وزرا کو اپنی کارکردگی بہتر بنانی ہوگی۔دریں اثنا وفاقی وزیراطلاعات و نشریات سینیٹر شبلی فراز نے وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد ہونے والے فیصلوں سے متعلقبریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کے فنکشنز سے متعلق بل لارہے ہیں جس کا مقصد ان کے اختیارات کو ذیادہ واضح کرنا شفافیت لانا اور دائرہ کار کو بڑھانا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے جتنی بھی خودمختار باڈیز تھیں ان کا آڈٹ پرائیویٹ سیکٹر سے کرایا جاتاتھا ہم آہنگیلانے کے لئے نیشنل بینک آف پاکستان او جی ڈی سی ایل وغیرہ تک آڈیٹر جنرل کا دائرہ کار بڑھادیا گیا ہے ۔آڈٹ کے پیرا دو نوعیت کے ہوتے ہیں ان میں طریقہ کار کے نقائص اور سنسی خیزی کا عنصر شامل ہے ان ترامیم سے آڈٹ کے طریقہ کار میں جدت ،ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کا استعمالاور ماہرانہ کاروائی ممکن ہو سکے گی۔کابینہ کو تیل کی اسمگلنگ روکنے کی خاطر لئے گئے اقدامات کے حوالے سے آگاہ کیا گیا ۔کابینہ کو بتایا گیا کہ غیر قانونی اور اسمگل شدہ تیل کی فروخت سے حکومت کو 180ارب روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے ۔انسداد اسمگلنگکے لئے اس وقت تک ملک بھر میں 192پٹرول پمپ سیل کر دئیے گئے ہیں جو اسمگلڈ تیل کی فروخت میں ملوث تھے۔قانونی کارروائی کا یہ عمل جاری رہے گا۔مشیر برائے ادارہ جاتی اصلاحات ڈاکٹر عشرت حسین نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ وفاقی حکومت کے 100سے زیادہ ادارے بند یا دوسرےاداروں کے ساتھ ضم کر دیے گئے ہیں تاکہ حکومت پر مالی بوجھ کم کیا جا سکے اور کارکردگی بہتر بنائی جا سکے ۔انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ تقریبا 71, 000کم درجے (اسکیل 1تا 16)کی آسامیاں جو کہ ایک سال کی مدت سے زیادہ عرصہ تک خالی رہی ہیں ،ان کو ختم کیا جائے گا۔کابینہ کوآگاہ کیا گیا کہ اے جی پی آر کے ادارے میں ڈیجیٹلائزیشن کا عمل لاگو کیا جارہا ہے جس سے کرپشن کے خاتمے میں مدد ملے گی۔ کابینہ نے لیگل ایڈ اینڈ جسٹس اتھارٹی ایکٹ 2020کے تحت ڈائریکٹر جنرل کی تعیناتی کی شرائط منظور کیں یہ اتھار ٹی مستحق وکمزورطبقے کوحصول انصافکے لئے مالی اور قانونی معاونت فراہم کرے گی۔ کابینہ نے ایف آئی اے ایکٹ 1974کے تحت ایف آئی اے کمرشل بنک سرکل لاہور کو پولیس اسٹیشن کا درجہ دینے کی منظوری دی ۔اس منظوری کے بعد ایف آئی اے (FIA)کے اس پولیس اسٹیشن کی عملداری کا اختیار لاہور،قصور ،شیخوپورہ،ننکانہ صاحب اور اوکاڑہ تک بڑھ جائے گا جس میں بینکاری جرائم کے خلاف قانونی کارروائی ممکن ہو سکے گی۔ کابینہ نے قومی طب کونسل میں ممبران کے انتخابات اور ایڈمنسٹریٹر تعینات کرنے کی منظوری دی۔معاون خصوصی برائے صحت نے کابینہ کو آگاہ کیا کہ ملک بھر سے دوبارہاستعمال ہونے والے سرنج کے خاتمے کے لئے قانون لایا جا رہا ہے ۔کابینہ نے پیٹرولیم ڈویژن کے زیر انتظام پبلک سیکٹر کمپنیوں کے بورڈ آف ڈائریکٹر زپر Ex-Officio ڈائریکٹر ز کی نامزدگیوں میں تبدیلی کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے وزارت ریلوے کو نوشہرہ میں تعمیرات کرنےکامعاملہ کمیٹی کے سپرد کر دیا جس میں وزیر قانون ،وزیر تعلیم ،وزیر دفاع اور وزیر ریلوے شامل ہونگے ۔کابینہ نے پاکستان کونسل برائے سائنس و ٹیکنالوجی کے بورڈ آف گورنرزتشکیل دینے کی منظوری دی ۔کابینہ نے کمیٹی برائے ادارہ جاتی اصلاحات کے مورخہ 17دسمبر2020اور23دسمبر2020کو منعقد ہ اجلاسوں میں لئے گئے فیصلوں کی تو ثیق کی۔ کابینہ نے کمیٹی برائے نجکاری کے مورخہ 04جنوری 2021کو منعقدہ اجلاس میں لئے گئے فیصلوں کی توثیق کی ۔ کابینہ نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے مورخہ06جنوری 2021 کو منعقدہ اجلاس میں لیے گئےفیصلوں کی توثیق کی ۔کابینہ نے یوٹیلٹی سٹورز کارپوریشن کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تنظیم نو کرنے کی منظوری دی۔کابینہ نے تعلیم کے فروغ کے لئے معارف فائونڈیشن ترکی اور وفاقی وزارت تعلیم کے مابین مفاہمتی یاداشت دستخط کرنے کی اجازت دی ۔کابینہ نے صوبہ سندھ میںضمنی انتخابات کے حلقوں میں امن و امان قائم رکھنے کی خاطر پاکستان رینجرز تعینات کرنے کی منظوری دی۔ کابینہ اجلاس میں وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اسامہ ستی کا کیس اٹھایا وزیراعظم نے سخت خفی کا اظہار کیا کہ کیسے ایک نوجوان لڑکے کو گولیاں مار کر قتل کر دیا گیا ہےجے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ مکمل کر لی ہے۔ وزیراعظم نے زور دیکر کہا کہ اگر اس جے آئی ٹی سے ورثامطمئین نہ ہوں تو جس طرح کی انکوائری چاہیں گے وہ یقینی بنائیں گیذمہ داروں کو کڑی سزائیں دیں گے ۔ ایک سوال کے جواب میں وفاقی وزیر اطلاعات سینیٹرشبلی فراز نے کہا کہبراڈ شیٹ سکینڈل2000سے شروع ہوامسلم لیگ ن اور پی پی کو این آر او دینے کے بعد یہ انکوائری سردخانے میں چلی گئی 200ناموں کی فہرست دی گئی تھی جنہوں نے رقوم بیرون ملک منتقل کی اس کے لئے بین الوزارتی کمیٹی بنائی گئی ہے جو سارے کیس اور چیدہ چیدہ نکات کا جائزہلے گی جنہوں نے ملک کے اثاثے لوٹے اور کمپنی کو جو ادائیگی کی تھی کمیٹی چند روز میں اہم انکشافات کرے گی قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کو بے نقاب کیا جائے گا ۔انہوں نے کہا کہ دو سالوں کے دوران ہر منگل کو کابینہ اجلاس منعقد ہوا ان اجلاسوں کی تعداد اور فیصلے پچھلی حکومت کے 10سالوں پر بھاری ہیں وزیراعظم نے ہر کابینہ رکن کی بات تجویز کو سنا حقیقی معنوں میں کابینہ کی مساوی ذمہ داری پوری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم پورے ملک کے لئے قصہ پارنیہ بن گیا ہے ایسی تحریک تھی جس کی بنیاد کھوکھلی تھی عوام نے ثابت کردیا ہے کہ عوام کرپشن کے خلاف باہر نکلتی ہے نہ کہ کرپشن بچانے کے لئے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سینٹ کے الیکشن کے لئے عدالت عظمی سے راہنمائی مانگی ،اس کا مقصد ہے کہ الیکشن شفاف ہوں اورپیسے کا استعمال نہ ہو پارلیمنٹ کا ایوان بالا سینٹ ہےاس میں وہ لوگ آئیں جو خاص تجربہ رکھتے ہیں وہ پالیسی سازی اور قانون سازی میں اپنا کردار ادا کریں ماضی میں پیسے والے لوگ آتے تھے جن کو آنا چاہئیے تھا وہ نہیں آپاتے تھے۔ انہوں نے کہاکہ پی ٹی آئی کا ہمیشہ سے موقف رہا کہ سینٹ کے الیکشن شفاف طریقے سے ہوں آنےوالے دنوں میں عدالت کیا راہنمائی دیتی ہے پوری قوم کو پتہ ہونا چاہیے کہ ہمارا مقصد کیا ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بہت سے تقاضے پورے کرنے میں تاخیر ہوتی تھی اس لئے پیپرا رولز کو ویکسین خریداری سے استثنی قرار دیا ہے یہ استثنیٰ تکنیکی وجوہات کی بناپر ایک مرتبہ کے لئے ہے ۔

موضوعات:

ویل ڈن شاہ جی

میں 28 سال سے اسلام آباد کا رہائشی ہوں اورمیں 25سال سے اس شہر میں واک کر رہا ہوں‘ شاید ہی شہر کی کوئی سڑک ہو گی میرے پائوں نے جس کا ذائقہ نہ چکھا ہو‘ میںپہاڑوں پر پیدل چلتا ہوامری تک چلا جاتا تھا‘ ساری ٹریلز بھگتا چکا ہوں اور تمام فٹ پاتھوں پر بھی دھکے اور ٹھڈے کھا ….مزید پڑھئے‎

میں 28 سال سے اسلام آباد کا رہائشی ہوں اورمیں 25سال سے اس شہر میں واک کر رہا ہوں‘ شاید ہی شہر کی کوئی سڑک ہو گی میرے پائوں نے جس کا ذائقہ نہ چکھا ہو‘ میںپہاڑوں پر پیدل چلتا ہوامری تک چلا جاتا تھا‘ ساری ٹریلز بھگتا چکا ہوں اور تمام فٹ پاتھوں پر بھی دھکے اور ٹھڈے کھا ….مزید پڑھئے‎





Source link

اپنا تبصرہ بھیجیں